درس مثنوی شریف
مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کا اصل نام محمد تھا لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ آپ بلخ ( افغانستان ) میں پیدا ہوئے اور ترکی میں وفات پائی ۔ آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے ۔ آپ نسلاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ فقہ کے بہت بڑے عالم تھے لیکن آپ کی شہرت ایک صوفی شاعر کے ہوئی ۔ حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ سے پیر و مرشد تھے ۔ مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کا کلام دونوں ہی کسی تعارف کے محتاج نہیں، کُل حصے سولہ ، کُل حکایات ایک ہزار تھہتر اور انتیس ہزار نو سو دو اشعار اور پر مبنی ان کی مشہور زمانہ مثنوی تصوف اور عشق الہی کے جملہ موضوعات کو انتہائ سادگی روحانی اور عام فہم انداز مین بیان کرتی ہے، عشق الہی اور معرفت کے انتہائی مشکل و پیچیده نکات سلجھانے کے لئے رومی نے سبق آموز حکایات و قصے کہانیوں سے مدد لی ہے جو بھی لکھا ہے، قرآن و حدیث نبوی سے اس کی سند بھی بیان کی جاتی ہے اس لئے آج آٹھ سو سال گزر جانے کے باوجود ان کے کلام کی اہمیت و افادیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ چونکہ یہ کلام فارسی میں ہے تو اس کا ترجمہ اردو زبان میں حضرت مولانا اشرف تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جو ” کلید مثنوی ” کے نام سے مشہور ہے۔ ان اشعار سے جذب ( اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے محبت ) کو نہایت ترقی ملتی ہے ۔ ہمارے پیر و مرشد عارف باللہ حضرت سید شبیر احمد کاکاخیل دامت برکاتھم نے اس کلید مثنوی شریف کا درس تقریبا ۲۰۰۸ میں شروع فرمائی اور ۱۵ سال کے بعد ۲۰۲۴ میں یہ پایہ تکمیل تک پہنچا ۔ اس میں یہ بات ہم واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ جو عام طور صوفی ازم کے نام پر جو صوفی رقص دکھایا جاتا ہے اس کی حقیقت بالکل بے بنیاد ہے ۔ اس کے رد میں ہمارے پیر و مرشد نے بڑے تفصیلاً بات فرمائی ہے جو کہ ہم نیچے آیڈیو کی صورت میں پیش کر رہے ہیں ۔
