تصوف کی اصطلاحات

۔1۔عنوان:تصوف میں یہی ہوتا ہے کہ قلب کو درست کرنے کے لیے کسی قلب والے کے پاس جانا ہوتا ہے۔(درس 1، (19۔08۔2015) )

۔2۔عنوان:شیخ ہمارے لیے آئینہ کی طرح ہوتا ہے اور توحید شہودی کی تعریف۔(درس 1، (19۔08۔2015) )

۔3۔عنوان:حجابات کو دور کرنا اور تصوف کی اہمیت۔ (درس 3، (02۔09۔2015) )

۔4۔عنوان:انسان مجذوب اپنی بےاحتیاطی کی وجہ سے بن جاتا ہے جبکہ پیر و مرشد اس کو مجذوب نہیں بناتا۔اور سالکین جو مراقبات کرتے ہیں وہ پیر و مرشد کا فیض ہوتا ہے۔ (درس 3، (02۔09۔2015))

۔5۔عنوان:اولیا اللہ میں بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک صرف ذات باری کے لیے مختص ہو جاتے ہیں وہ مخلوق کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتے۔ اور کچھ راجعین ہوتے ہیں ان کو مخلوق کی طرف واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔خلوت در انجمن کی تعریف۔( درس 4، ( 09۔09۔2015))

۔6۔عنوان:عروج اور نزول کی تعریف ( درس 5 ،  (16۔09۔ 2015))

۔7۔عنوان:لطائف کا سارا معاملہ کشفی ہے ۔۔ ( درس 5 ،  (16۔09۔ 2015))

۔8۔عنوان:تصوف میں صرف دو کام ہوتے ہیں۔نفس کے اوپر پیر رکھا جاتا ہے اور ذکر کی وجہ سے اجرا ہوتا ہے (درس 6 ،( 23۔09۔2015))

۔9۔عنوان:کشف کی حقیقت اور خواب کی درجہ کشف سے زیادہ ہے ۔ (درس 7 ، (30۔09۔2015))

۔10۔عنوان:وحدت الوجوہ کی تعریف یعنی بظاہر یہ قدرت سے اللہ کی طرف رجوع کرنے کا نام ہے ۔ ( درس 8 ، (07۔10۔2015))

۔11۔عنوان:کیفیت احسان کو حاصل کرنا تصوف اور طریقت کی بنیاد ہے ۔( درس 8 ، (07۔10۔2015))

۔12۔عنوان:جذب کا معنی اللہ تعالی کا کھینچنا۔ آج کل کے فتنوں اور انتشار میں جذب اور سلوک طے کروانے کے طریقے۔ہمارا سلسلہ الحمد اللہ تمام سلاسل کا جامع ہے ۔ ( درس 8 ، (07۔10۔2015))

۔13۔عنوان:اللہ تعالی نے دونوں نظام یعنی تکوین اور تشریح کے بنائے ہیں۔شریعت پر چلنا مطلوب ہے۔توجہ کی مکمل تشریح۔( درس 9 ، (14۔10۔2015))

۔14۔عنوان:جس پر توجہ کی جا رہی ہو تو ضروری نہیں کہ اس سے فائدہ ہو۔صحبت سو کی وجہ سے توجہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ( درس 9 ، (14۔10۔2015))

۔15۔عنوان:توجہ انعکاسی کی تعریف ۔( درس 9 ، (14۔10۔2015))

۔16۔عنوان:ذات صفات کا محتاج نہیں ہوتا لیکن صفات سے ذات کا ظہور ہوتا ہے ۔  ( درس 11 ، (28۔10۔2015))

۔17۔عنوان:اللہ کسی کو اپنی صفات کے ذریعے دیتا ہے اور خاص لوگوں کو اپنی تجلی سے عطا فرماتا ہے ۔( درس 11 ، (28۔10۔2015))

۔18۔عنوان:اللہ تعالی انبیا اور اولیا کو جو صفات دیے ہیں ان کو ماننا اور پھر ان صفات کی وجہ سے ان کی خدا تک پہنچانا ۔ اس میں فرق کرنا بہت باریک ہے اور یہی ہی عقائد میں بڑا فرق لاتے ہیں ۔ نعت شریف کا لکھنا  بڑا ہی مشکل کام ہے ۔ہر چیز کے مقام کا خیال رکھنا یہ ادب ہے۔ایک شحض ادب کرتے کرتے شرک کی چلا جائے کا اور ایک شخص توحید میں اتنا آگے چلا جائے گا کہ شرک کرے گا ۔ تو ہر چیز ایک لمٹ ہوتی ہے۔ ( درس 11 ، (28۔10۔2015))

۔19۔عنوان:ظل اور عکس میں فرق ۔لطائف رابطہ ہے ہمارا اور عالم بالا کے درمیان۔ بندہ کا روحانی پرواز اپنے لطائف کے ذریعے کر سکتا ہے ۔ ( درس 11 ، (28۔10۔2015))

۔20۔عنوان:مقام حیرت کی تعریف ۔( درس 12 ، (04۔11۔2015))

۔21۔عنوان:اللہ تعالی کو کوئی پاہ نہیں سکتا لیکن اللہ تعالی تک پہنچنے کے لیے اللہ نے ذرائع بنائے ہیں اور وہ اظلال میں ہیں ۔ ( درس 12 ، (04۔11۔2015))

۔22۔عنوان:حقیقت کعبہ کی تعریف ۔ ( درس 12 ، (04۔11۔2015))

۔23۔عنوان:اللہ تعالی سے لینا ہے اور اللہ تعالی سے لینا کا ذریعہ رسول پاک ﷺ ہیں ۔ جس کا اس نظام تک رسائی ہو گئی تو وہ کامیاب ہو گیا ۔ ( درس 12 ، (04۔11۔2015))

۔24۔عنوان:تکوینی نظام کا تعارف اور دوسرا اللہ تعالی کی ذات کا تعارف ہے یہ دونوں آپ ﷺ کی ذات کے ذریعے سے ہو گا ۔ ( درس 12 ، (04۔11۔2015))

۔25۔عنوان:جذب اور سلوک کی تعریف ۔  ( درس 13 ، (11۔11۔2015))

۔26۔عنوان:پیر و مرشد میں کیا خصوصات ہونی چاہیے ۔   ( درس 13 ، (11۔11۔2015))

۔27۔عنوان: سیر عن اللہ باللہ کی تعریف یہ نزولی ترتیب ہے ۔ یہ نزولی ترتیب انیبا کا کام ہے ۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا یہ عروجی ترتیب ہے یہ ملائکہ والے کام ہیں۔( درس 14 ، (18۔11۔2015))

۔28۔عنوان: فنا النفس بقا باللہ کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ دونوں ایک ہی وقت میں انجام پاتے ہیں ۔ ( درس 14 ، (18۔11۔2015))

۔29۔ عنوان: وحدت الشہود اور وحدت الوجود  کی تعریف ۔ ( درس 14 ، (18۔11۔2015))

۔30۔عنوان: مجذوب کسی کی تکمیل نہیں کر سکتا۔ مبتدی ، متوسط اور منتہی کی کیفیات کی تفصیل ۔ ( درس 15 ، (25۔11۔2015))

۔31۔عنوان: سیر عن اللہ باللہ کی مزید تعریف ۔  ( درس 15 ، (25۔11۔2015))

۔32۔ عنوان: شیخ کی مثال برزخ کی طرح ہوتا ہے ۔  ( درس 15 ، (25۔11۔2015))

۔33۔ عنوان: تشبیہ اور تنزیہی کی تشریح ۔ شیخ انبیا کے قدم پر ہوتا ہے ، فرشتوں کے قدم پر نہیں ہوتا ۔  ( درس 15 ، (25۔11۔2015))

۔34۔ عنوان: شرکِ طریقت کا مفہوم اور فنا النفس کا ہونا ضروری ہے ۔  ( درس 15 ، (25۔11۔2015))

۔35۔عنوان: اسباب کو مکمل اختیار کرنا ہے لیکن نظر اللہ پر ہونی چاہیے۔ منتہی مرجوع اور مرجوع متمکن میں فرق ۔  ( درس 15 ، (25۔11۔2015))

۔36۔عنوان: مقام صفات اور مقام شیونات میں فرق ۔ ( درس 16 ، (02۔12۔2015))

۔37۔ عنوان: جس پر جس شان کا غلبہ ہو گا تو اس شان کے مطابق اللہ تعالی کی صفات نظر آئیں گے ۔ ( درس 16 ، (02۔12۔2015))

۔38۔ عنوان: محمدی مشرب کی فضیلت ۔ ( درس 16 ، (02۔12۔2015))

۔39۔ عنوان: صفات اللہ تعالی کی جامعیت کے لیے وہ حجاب بن سکتی ہے ۔ ( درس 16 ، (02۔12۔2015))

۔40۔عنوان: محمدی مشرب کا سلوک طے کرنا ۔  ( درس 17 ، (09۔12۔2015))

۔41۔ عنوان: فنا فی اللہ حاصل ہونے کے بعد بشری صفات کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو صرف اللہ کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے۔ فنا فی اللہ اور فنا فی الصفات میں فرق ۔ ( درس 17 ، (09۔12۔2015))

۔42۔ عنوان: محبوبین ہر وقت اپنے بارے میں بدگمان رہتے ہیں کہ کہیں اللہ کو ناراض تو نہیں کر رہا ۔ ( درس 17 ، (09۔12۔2015))

۔43۔عنوان: محبوب یا محب میں نہ پڑو صرف مقصود حاصل کرو۔ ۔ ( درس 17 ، (09۔12۔2015))

۔44۔عنوان: پہلے سلوک طے کرنا ہوتا ہے ۔ اس سے معرفت ملتی ہے ۔ جذب کی حالت میں عروج ملتی ہے ۔ اس کو پھر واپس لایا جاتا ہے ۔ ( درس 24 ، (27۔01۔2016))

۔45۔ عنوان: جذب اور سلوک دو ذریعے ہیں اپنے آپ کو دنیا سے چھڑانے کا اور اللہ کے محبت کرنے کا ۔   ( درس 24 ، (27۔01۔2016))

۔46۔عنوان: مشائخ مرید کی صلاحتیوں کو پہچان کر تشکیل کرواتے ہیں ۔   ( درس 25 ، (03۔02۔2016))

۔47۔ عنوان: آپ ﷺ کی ذات مبارک تکوین کی بنیاد ہے ۔ ( درس 25 ، (03۔02۔2016))

۔48۔عنوان: انسان اشرف المخلوقات ہیں اور پھر آپ ﷺ کی امت اشرف الامت ہیں ۔ ( درس 25 ، (03۔02۔2016))

۔49۔عنوان: مجدد کیوں آتے ہیں اورکب آتے ہیں ؟ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کا کام  ۔ ( درس 26 ، (10۔02۔2016))

۔50۔عنوان: جذب کا مفہوم اور اس کے اثرات ۔ ( درس 26 ، (10۔02۔2016))

Scroll to Top