مقاماتِ قطبیہ اور مقالاتِ قدسیہ
قطب الاقطاب حضرت شیخ رحمکار کاکاصاحب رحمتہ اللہ علیہ نسباً حسینی سادات میں سے تھے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ۳۰ شعبان / یکم رمضان المبارک بوقت صبح صادق ۹۸۱ ھ یا ۹۸۳ھ میں اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ اکبر کی تخت نشین کا بیسواں سال تھا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا اسم محضہً ” کستیر ” رکھا گیا ۔ لیکن بعد میں آپ شیخ رحمکار کاکاصاحب رحمتہ اللہ علیہ اور زیڑے کاکا کے ناموں سے مشہور ہوئے ۔ حضرت شیخ کے والد قطب عالم شیخ بہادر رحمتہ اللہ علیہ باباچراٹ پہاڑی سلسلے کے موضع کنڑہ خیل ، علاقہ خٹک میں مقیم تھے ۔ اور یہی حضرت شیخ کی جائے پیدائش ہے ۔ حضرت شیخ نے ابتدائی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا پھر علوم دینی کے حصول کی طرف متوجہ ہوئے ۔ ۱۰۱۱ ھ میں جب آپ کی عمر ۲۷ سال تھی موجودہ زیارت کاکاصاحب میں منتقل ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو پانچ فرزند عطا فرمائے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو روحانی فیض براہِ راست حضور پاک ﷺ کی روح صافی سے پہنچا تھا ۔ اور خود حضور ﷺ ہی نے آپ کی روحانی تربیت کی تھی اور مدارج کمال تک پہنچایا تھا ۔ اور یہ سلسلہ آپ کی عہد طفولیت ہی سے شرو ع ہو چکا تھا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دو قدم تھے ۔ مسجد سے خلوت خانہ ، اور خلوت خانہ سے مسجد تیسرا قدم ان کا نہ تھا ۔ مسلک اہل سنت الجماعت کے پابند تھے ۔ تلاوت کلام پاک یا مطالعہ کتب میں مصروف رہتے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ راست گوخوش خلق مہربان ، فراخ دل ، کریم النفس وعدہ وفا اور شفیق تھے ۔ سنت نبوی ﷺ کے کامل متبع تھے ۔ معرفت الہٰی میں مقام کمال رکھتے تھے ۔ کم خوراک ، زاہد اور تارک دنیا تھے ۔ ۲۴ رجب ۱۰۶۳ ھ بروز جمعہ ، خطبہ کے دوران جب خطیب کے منہ سے یہ جملہ نکلا ۔۔۔ ” الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب ” تو عین اسی وقت واصل بحق ہو گئے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی عمر ۸۰ سال تھی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مشہور ملفوظ جو ان کے بیٹے حضرت حلیم گل بابا رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ” مقاماتِ قطبیہ اور مقالاتِ قدسیہ ” میں تحریر فرمایا جس میں حضرت نے فرمایا ہے : ” بخش دی میں نے شیخی شیخوں کو ، پیری پیروں کو ، سلوک سالکوں کو ، تصوف صوفیوں کو ۔ دل لخت لخت کیلئے یہ ہی امید کافی ہے کہ رب عز و جل کی غلامی کا یہ طوق جو میری گردن کی زینت ہے میری گردن سے کبھی جدا نہ ہو ” اور یہ عبدیت کا نہایت اعلیٰ مقام ہے اور یہ انسانیت کا آخری روحانی درجہ ہے ۔
۔1۔عنوان : کتاب شروع کرنے کا تعارف ۔ اپنے اکابرین سے جوڑنے سے ان کے فیوض و برکات نصیب ہوتے ہیں اور ہمیں اپنے اکابرین کی کتب کی قدر کرنی چاہیے ۔ ( درس 1 ، (10۔05۔2016))
