سلوک سلیمانی اور تربیت سالک
زیر نظر کتاب “سلوک سلیمانی” جس کا دوسرا نام “شاہراہ معرفت” بھی ہے، جس میں حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کی اصلاحی سلوک کی پیش کردہ تعلیمات و خطوط کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے پہلی دو جلدوں میں حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کی اصلاحی سلوک کی پیش کردہ تعلیمات کو مرتب پروفیسر حضرت اشرف سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی توضیحات و تعبیرات کے ساتھ پیش کیا ہے جبکہ تیسری جلد میں حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کے اسلامی تصوف و سلوک کے بارے میں اپنے معتقدین کے ساتھ مکاتیب کو پیش کیا گیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ اس جلد میں ان مکتوبات کو درج کیا گیا ہے جو انہوں نے وقتا فوقتا اپنے مریدین کی اصلاح نفس کے لئے تحریر فرمائے ہیں۔ چونکہ صوفیہ کا یہ طریق رہا ہے کہ وہ اپنے مریدین کی اصلاح خط و کتابت کے ذریعہ کرتے رہتے ہیں اور ان کے اشکالات کو بھی دور کرتے رہتے ہیں۔جو لوگ حضرت مولانا اشرف سلیمانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی دینی ، تعلیمی ، سیاسی اور اصلاحی خدمات سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے ملک و ملت ، دین اسلام اور اصلاحِ معاشرہ کے لئے طویل قلمی ، مالی اور بدنی جہاد کیا تھا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سن ۱۹۲۵ میں پیدا ہوئے اور پشاور کے ایک قبیلے مومند سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عربی اور فارسی زبان میں ایم-اے کیا اور پشاور یونیورسٹی میں عربی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین رہے ۔ فارسی زبان پر عبور ہونے کی وجہ سے حضرت مولانا زکریا رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت سے اپنی شہرہ آفاق کتاب تبلیغی نصاب کا فارسی میں ترجمہ کرایا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ۱۹۹۵ میں ہوئی ۔ اس کتاب کے درس کا سلسلہ ہمارے خانقاہ میں ۲۰۲۰ سے شروع ہوا تھا اور ۲۰۲۴ میں اس کی تکمیل ہوئی ہے ۔ اس کے دروس اور تشریح ہمارے پیر و مرشد حضرت سید شبیر احمد کاکاخیل دامت برکاتھم فرماتے تھے ۔
